Subscribe Us

waqiat e serat episode 70 in urdu

 

واقعات سیرت۔ ضیاء النبی کی روشنی میں       قسط نمبر70

جہاں ایک آدمی جاگ رہا ہو اور دوسرا اس کے پاس ہی سو رہا ہو تو اسے سلام کہنے کا کیا طریقہ ہے

امام بخاری ادب مفرد میں حضرت مقداد بن اسودر ضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کبھی رات کے وقت تشریف فرما ہوتے تو ا س طرح سلام فرماتے کہ جو جاگ رہا ہے وہ سن لے اور جو سو رہا ہے اس کی آنکھ نہ کھلے۔سلام کے علاوہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کو باہم مصافحہ کرنے،معانقہ کرنے اور بوسہ دینے کی بھی ترغیب فرمائی۔

مصافحہ،معافقہ اور تقبیل کے آداب

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ ہاتھ ملا کا مصافحہ فرماتے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دو مسلمان اللہ کی رضی کی خاطر ہاتھ ملاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کے گناہ معاف فرما دیتے ضیاء النبی میں اس کا تذکرہ اس طرح سے ہوا ہے۔

امام احمد،ابی اسحاق سے روایت کرتے ہیں کہ میری ملاقات براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔انہوں نے مجھے سلام فرمایا،میرا ہاتھ پکڑ لیا اور مسکرا دیئے۔پھر پوچھا تم جانتے ہو کہ میں نے ایسا کیوں کیا۔ابو اسحاق کہتے ہیں کہ میں نے کہا مجھے اس کی وجہ کا علم تو نہیں لیکن جو آپ نے کیا ہے اس میں بہتری ہے۔ براء نے کہا کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے ملاقات کی اور اس طرح کیا  جس طرح میں نے آپ کے ساتھ کیا ہے۔پھر مجھ سے پوچھا میں نے وہی جواب عرض کیا جو آپ نے کہا پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔:”جب بھی دو مسلمان آپس میں ملاقات کرتے ہیں اور ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو سلام کہتا ہے اور اس کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے وہ محض اللہ کی رضا کیلئے اس کا ہاتھ پکڑتا ہے تو ان کے جداہونے سے پہلے ان کے سارے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔“حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ معمول تھا کہ جب اپنے صحابہ میں سے کسی کے ساتھ ملاقات کرتے تو اس پر ہاتھ پھیرتے اور اس کے لئے دعا فرماتے۔حضرت امام احمد،بنی عنزہ کے ایک شخص کے واسطے سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت ابو ذر سے کہا میں آپ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا ہوں۔حضرت ابو ذر نے فرمایا وہ حدیث اسرار نبوت سے نہ ہوئی تو میں تمہیں بتا دوں گا۔میں نے عرض کی کہ وہ اسرار نبوت سے نہیں ہے،میں یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا جب تم لوگ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کرتے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم سے مصافحہ کرتے؟ حضرت ابو ذر نے فرمایا جب کبھی بھی ملاقات کا شرف نصیب ہوا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے ساتھ مصافحہ فرمایا۔ایک روز میرے آقا(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے میری طرف ایک آدمی بھیجا میں گھر نہ تھا جب وہ آیا تو اہل خانہ نے مجھے اطلاع دی کہ اللہ کے پیارے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے یاد فرمایا ہے۔میں فوراََ خدمت اقدس میں حاضر ہو گیا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت چار پائی پر استراحت فرما تھے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے گلے لگا لیا۔گویا مصافحہ کرنے سے گلے لگانا زیادہ پسند یدہ ہے۔

دست بوسی اور قدم بوسی

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حضرت سیدہ فاطمہ کے استقبال کرنے کا انداز ضیاء النبی میں کچھ اس طرح سے موجود ہے ملاحظہ کیجئے۔

ابن ماجہ،صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ یہودیوں کا ایک گروہ بارگاہ نبوت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)میں حاضر ہوا انہوں نے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک کو بھی بوسہ دیا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدمین شریفین کوبھی چوما۔امام بخاری اور مسلم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو بوسہ دیا۔امام مسلم اور بخاری ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں آپ فرماتے ہیں کہ حضرت فاطمہ (رضی اللہ عنہا)سے زیادہ میں نے کوئی نہیں دیکھا جو گفتگو کرنے میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مشابہت رکھتا ہو۔آپ(رضی اللہ عنہا)جب حاضر خدمت ہوتیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے استقبال کیلئے کھڑے ہوتے،انہیں مرحبا کہتے،ان کو بوسہ دیتے اور سیدہ (رضی اللہ عنہا)کو اپنے پاس بٹھاتے۔اور جب رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی صاحبزادی کے گھر قدم رنجہ فرماتے تھے تو حضرت سیدہ استقبال کیلئے کھڑی ہوتیں،حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کید ست مبارک کو پکڑ تیں،مرحبا کہتیں اور بوسے دیتیں۔پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی جگہ پر بٹھاتیں۔حضرت سیدہ (رضی اللہ عنہا)جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آخری بیماری کے وقی زیارت کیلئے حاضر ہوئیں تو شفیق و کریم باپ نے اپنی لخت جگر کو خوش آمدید بھی کہا اور ان کے بوسے لئے۔امام بخاری الادب المفرد میں وازع بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم بارگاہ رسالت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)میں حاضر ہوئے۔:ہم نے پہلے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دونوں مبارک ہاتھوں کو پکڑا اور انہیں بوسے دئیے پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدمین شریفین کو چومتے رہے۔

نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نشست و برخاست کی ادئیں

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹھنے کے انداز کو ضیاء النبی میں اس طرح سے بیان کیا گیا ہے ملا حظہ کیجئے۔

مجلس میں جہاں بھی جگہ خالی ملتی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں تشریف فرما ہو جاتے اور اپنے صحابہ کو بھی یہی حکم دیا کرتے۔قرفصاء: بیٹھنے کی ایک خاص ہیئت ہے جس میں انسان اپنے پاؤں پر بیٹھتا ہے اور رانوں کو پنڈلیوں سے ملا دیتا ہے۔حضر ت مخرمہ کی صاحبزادی فرماتی ہیں:میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنے پاؤں پر بیٹھے دیکھا۔تربع:چار زانوں بیٹھنا۔حضرت حنظلہ بن خزیم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔میں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار زانو ہو کر بیٹھے ہیں۔حضرت جابو بن حخرہ سے مروی ہے کہ صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چار زانوہو کر بیٹھے رہتے یہاں تک کہ سورج طلوع ہوتا۔احتباء:انسان اپنے گھٹنوں کو کھڑا کر کے انہیں اپنے دونوں ہاتھوں سے گھیرلے۔حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے آقا علیہ الصلوۃ والسلام کو کعبہ شریف کے صحن میں دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احتباء کی صورت میں تشریف فرما تھے۔

نگا ہ کوآسمان کی طرف بلند کرنا

حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کافی دیر تک اپنے صحابہ سے محو گفتگو رہتے تو کبھی کبھی اپنی نگاہوں کو آسمان کی طرف بلند کرتے۔

حضور کا تکیہ لگانے کا اندازصفوان بن عسال ایک روز اللہ تعالیٰ کے پیارے رسول(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے،دیکھا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سرخ رنگ کے تکیہ سے ٹیک لگائے بیٹھے ہیں۔حضرت جابر بن سمرہ سے مروی ہے انہوں نے فرمایا کہ بارگاہ رسالت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)میں حاضر ہو ا۔میں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بائیں جانب تکبہ رکھا ہے اور اس ٹیک لگائے بیٹھے ہیں۔بسا اوقات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کنوئیں کے منڈیر پر تشریف فرما ہوتے اور اپنے قدم مبارک کو کنوئیں میں لٹکا دیتے۔

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحابہ کے ساتھ نشست کا انداز

اللہ تعالیٰ کے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنے صحابہ کرام کے ساتھ نشست کے انداز کو ضیاء النبی میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے ملاحظہ کیجئے۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اپنے صحابہ کے درمیان تشریف فرما ہوتے تو اپنے گھٹنوں کو اپنے ہم نشینوں سے آگے نہ کرتے۔جو شخص حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست مبارک کو تھام لیتا جب تک وہ خود اپنا ہاتھ واپس نہ کرتا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے ہاتھ کو نہ چھوڑتے۔اور جو شخص بھی بارگاہ رسالت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)میں حاضری کا شرف حاصل کرتا جب تک وہ خود اٹھ کر چلا نہ جاتا،حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے نہ ہوتے۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کرام کے ساتھ جب کہیں تشریف فرما ہوتے تو خود درمیان میں بیٹھتے،صحابہ کرام حلقہ باندھے چاروں طرف بیٹھا کرتے۔سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب خطاب فرماتے تو کبھی ایک طرف کے لوگوں پر توجہ فرماتے کبھی دوسری طرف کے لوگوں پر اور کبھی تیسری طرف کے لوگوں پر توجہ فرماتے۔حضرت ابو ہریرہ اور ابو ذر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کے درمیان میں بیٹھتے۔ناواقت اعرابی آتے تو وہ یہ نہ سمجھ سکتے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہاں تشریف فرما ہیں۔انہیں لوگوں سے پوچھنا پڑتا۔ہم نے بارگاہ رسالت میں عرض کی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اجازت دیں تو ہم اونچا سا تھڑا بنا ئیں تا کہ اعرابی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بآسانی پہچان سکیں۔چنانچہ ہم نے ایک تھڑا بنایا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس پر تشریف فرما ہوتے اور ہم ایک دوسرے سے پیچھے صفیں بنا کر بیٹھ جاتے۔خضرت امام احمد،عبادہ بن تمیم سے وہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک دفعہ اللہ تعالیٰ کے محبوب رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کو دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں لیٹے ہیں اور ایک پاؤں دوسرے پاؤں پر رکھا ہوا ہے۔“(ضیاء النبی ج5ص516تا521)

 

 

 

waqiat e serat episode 70 in urdu waqiat e serat episode 70 in urdu Reviewed by Rizwan Malik on مارچ 21, 2021 Rating: 5

کوئی تبصرے نہیں:

تقویت یافتہ بذریعہ Blogger.